Huzaifa786
Beginner Level 2
Options
- Mark as New
- Bookmark
- Subscribe
- Subscribe to RSS Feed
- Permalink
- Report Inappropriate Content
04-04-2026 11:46 AM in
Galaxy S
اسلام علیکم
کل رات مدینہ سے جدہ کی طرف واپس آ رہا تھا تو بس والے نے ہوٹل پر بریک لگائی تاکہ لوگ کھانا بھی کھائیں اور نماز بھی ادا کر سکیں۰ اس جگہ پچاس سے زائد بسیں الگ الگ لائنوں میں رکی ہوئی تھیں۰ آدھے گھنٹے کا وقت تھا اور میں اپنی بس کی طرف آیا تو مجھے ایک ایسے شخص نظر آئے جو شدید پریشانی کے عالم میں بسوں کو دیکھ رہے تھے خاص طور پر اس بس کی طرف دوڑتے جو چلنے لگتی تھی مگر یہ سوار نہ ہوتے اور واپس اتر کر کھڑے ہوتے اور ادھر ادھر دیکھنے لگتے تھے۰
انھیں پریشان حال دیکھ کر میں ان کے قریب پہنچا تو پریشانی میں ان سے بات نہیں ہو رہی تھی۰ سب سے پہلے میں نے انھیں کہا فکر نہ کریں گاڑی بھی ملے گی اور سامان بھی مل جائے گا۰ آپ میرے ساتھ رہیں آپ کی گاڑی تلاش کرتے ہیں اور اسے تسلی دیتا رہا تاکہ ذہنی طور پر اچھے ہو جائیں۰ پھر میں انھیں گاڑیوں کے قریب کے لے گیا اور جو گاڑی نکلنے لگتی میں ڈرائیور کو کہتا رک جائیں اس بزرگ کو چیک کرنے دیں کہیں یہ بس ان کی تو نہیں ہے۰
اس طرح سے کچھ دیر ہم نے مل کر بس کو تلاش کیا مگر بس نہیں ملی اور بزرگ سے ٹھیک بات بھی نہیں ہو رہی تھی در اصل اس بزرگ کو پہلے ہی ایک بس والے نے سٹاپ پر چھوڑ دیا تھا یہ کسی دوسری بس پر سفر کر رہے تھے۰ میں نے بزرگ سے پوچھا کہ آپ کی بس کہاں سے نکلی تھی اس نے کہا ریاض سے نکلی تھی اور ریاض واپس جا رہی تھی۰ بات سن کر مجھے دکھ ہوا کہ احرام میں بزرگ مکہ جا رہا مگر اسے درست علم نہیں رہا۰ پھر میں نے پوچھا کہ عمرہ کر لیا ہے جو واپس جا رہے ریاض تو بزرگ نے کہا عمرہ کرنے جا رہا ہوں اس وقت دماغ اپنی مرضی کر رہا ہے ۰
اس وجہ سے بولنے میں مشکل پیش آرہی ہے۰ میں نے ڈرائیور لوگوں سے بھی کہا کہ اس بزرگ کی مدد کریں تاکہ ان کا سامان بھی مل جائے اور انھیں گاڑی بھی میسر ہو مگر کوئی راستہ نہ نکل سکا۰ میرے دل میں شدید بھی بزرگ کو دیکھ کر شدید تکلیف ہونے لگی اور اسی بے بسی میں دعا کی کہ یا اللہ بزرگ پریشان ہے اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے عرض کی کہ آپ کا امتی بس سٹاپ پر پریشان ہے۰ دعا کرنے کی دس منٹ کے قریب گزرے ہونگے کنڈیکٹر اور ڈرائیور آئے انھوں نے کہا ہم آپ کا انتظار کر رہے ہیں۰ بزرگ پٹھان نے مسکراتے ہوئے مجھے گلے لگایا اور پھر اپنی بس پر روانہ ہو گئے۰
0 Comments