cancel
Showing results for 
Search instead for 
Did you mean: 

Original topic:

*آزمائشیں اور ہم*

(Topic created on: 02-28-2026 02:32 AM)
83 Views
abulwasila
Active Level 1
Options
Galaxy S
 ہم سب ایک دن کسی نہ کسی آزمائش میں ہو سکتے ہیں، اس لیے دوسروں کے لیے وہی رویہ رکھیں جو ہم اپنے لیے چاہتے ہیں۔ زندگی میں بعض آزمائشیں ایسی آتی ہیں جو مال، صحت یا منصب سے نہیں بلکہ *عزت* ، *کردار* اور *نیت* سے جڑی ہوتی ہیں۔ یہ وہ آزمائش ہے جو انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہے، مگر اگر صبر کے ساتھ برداشت کی جائے ،تو اللہ کے ہاں درجات بلند کر دیتی ہے۔ تاریخِ اسلام ہمیں عظیم مثالیں دیتی ہے۔ جن میں حضرت عائشہؓ رسول اللہ ﷺ کی زوجہ، امّ المؤمنین، علم و طہارت کی علامت ان پر ایسا بہتان لگایا گیا کہ مدینہ کی فضا متأثر ہو گئی۔ یہاں تک کہ بعض نیک دل لوگ بھی بات کو دہرانے لگے۔ اللہ نے اس واقعے کو قرآن میں محفوظ کر دیا تاکہ قیامت تک آنے والے لوگ سمجھ سکیں کہ: *ہر پھیلنے والی بات سچ نہیں ہوتی* ، *اور ہر بولنے والا خیر خواہ نہیں ہوتا* اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ بہتان پھیلانے والے سمجھتے ہیں کہ یہ معمولی بات ہے، حالانکہ اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی بات ہوتی ہے۔ اگر حضرت عائشہؓ رضی اللہ عنہا جیسی پاکباز خاتون پر پروپیگنڈا ہو سکتا ہے، تو آج ہم اور آپ کس شمار میں ہیں؟ یہ سمجھ لینا چاہیے کہ بعض اوقات الزام کردار کی کمزوری سے نہیں، بلکہ حسد، غلط فہمی، یا شیطانی چسکے سے لگتے ہیں۔ اور سب سے خطرناک وہ لوگ ہوتے ہیں جو “ہم نے تو بس سنا تھا” کہہ کر بات آگے بڑھا دیتے ہیں۔ دانشمند وہ ہے جو ہر سنی سنائی بات پر رُک جائے، تحقیق کرے اگر فائدہ مند ہو، اور اللہ کے سامنے جواب دہی کو یاد رکھے۔ اور صبر کرنے والا جان لے کہ اللہ کی عدالت دیر سے لگتی ہے مگر فیصلہ حق کے ساتھ ہوتا ہے۔ بہتان وقتی شور ہے، سچ خاموش رہ کر بھی زندہ رہتا ہے۔ اللہ ہمیں الزام لگانے سے، بات پھیلانے سے، اور کسی کی عزت اچھالنے سے محفوظ رکھے۔ اور اگر ہم آزمائش میں ہوں تو حضرت عائشہؓ کے صبر اور اللہ کے فیصلے کو یاد رکھنے کی توفیق دے۔ جب کسی کے خلاف باتیں سنیں تو ایک صاحبِ ایمان کا رویہ فوراً یقین نہ کریں ہر سنی ہوئی بات سچ نہیں ہوتی۔ قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ خبر آئے تو ٹھہر جاؤ، کیونکہ جلد بازی اکثر پشیمانی بن جاتی ہے۔ بات کو آگے نہ بڑھائیں کسی بات کو آگے بھیج دینا، چاہے “بس اطلاع کے لیے” ہو، آپ کو بھی اس گناہ میں شریک کر دیتا ہے۔ خاموشی بعض اوقات سب سے بڑی نیکی ہوتی ہے۔ دل میں حسنِ ظن رکھیں اہلِ ایمان کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے بھائی کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہیں پوچھیں: اس بات کا فائدہ کیا ہے؟ کسی کی باتیں ہمیں پہنچ گئی ہمیں کیا فایدہ ہوا؟؟ ہوسکتا ہے معاملہ کچھ اور ہو۔۔۔ موقعہ ۔۔مخاطب اگر اس بات سے نہ اصلاح ہو، نہ حق واضح ہو، تو وہ بات شیطان کی خدمت ہے، خواہ مذہب کے نام پر ہی کیوں نہ ہو۔ زبان کو اللہ کے سامنے جواب دہ سمجھیں ہم میں سے ہر ایک کو اپنے الفاظ کا حساب دینا ہے، خاص طور پر وہ الفاظ جو کسی کی عزت پر لگتے ہوں۔ ظالم کا ساتھ مت دیں، خاموشی سے روکیں اگر ممکن ہو تو نرمی سے کہہ دیں: “بھائی، یہ بات ثابت نہیں، بہتر ہے نہ پھیلائیں۔” یہ جملہ فتنہ بھی روکتا ہے اور آپ کو بھی محفوظ رکھتا ہے۔ فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیں یاد رکھیے! کچھ سچ اس دنیا میں واضح نہیں ہوتے، لیکن اللہ کی عدالت میں کوئی بات دب نہیں سکتی۔ یاد رکھیں: جو شخص ہر بات آگے بڑھاتا ہے، وہ فتنہ پھیلاتا ہے۔ اور جو شخص ہر بات پر رُک جاتا ہے، وہ معاشرے کو بچاتا ہے۔ اللہ ہمیں ہر اک کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔ مسلمان کی عزت کو بیت اللہ سے بھی بڑھ کر بتایا گیا ہے ( شعب الایمان) در حقیقت دوسروں کی آزمائش میں، ہماری بھی آزمائشیں ہوتی ہیں۔۔ اللھم انا نعوذبک من فتنة المحیا والممات۔
0 Comments