cancel
Showing results for 
Search instead for 
Did you mean: 

Original topic:

unknown to whom

(Topic created on: 09-30-2020 01:23 PM)
Skahn
Beginner Level 3
Options
Community Guidelines
بچوں کی شادی میں والدین کی کوتاہی کا نتیجہ ------------------------------------------------ یہ نیچے ڈاکٹر عدنان خان نیازی صاحب کی تحریر ہے۔ ان کی تحریر کا ایک ایک لفظ سچ ہے۔ بہت سے والدین اپنے بچوں پر اعتماد کر کے بیٹھے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے بچے بغیر شادی کے شادی شدہ زندگی گزار رہے ہیں۔ اور اس سب کچھ کا وبال والدین کے اوپر ہے کہ مناسب رشتہ ہونے کے باوجود مین میخ نکال کر شادیاں نہیں کرتے اور بچوں کو گناہ کی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں۔ پڑھائی کے نام پر پندرہ بیس لاکھ لگا دیں گے لیکن اس کو بدکاری سے بچانے کے لیے ان کے پاس شادی کرنے کے پیسے نہیں ہیں۔ ایسی حرام کی زندگی سے تو بہتر ہے کہ اس کا صرف نکاح ہی کر دیں۔ وہ بچی جسے گھر میں اسمارٹ فون رکھنے اور سننے کی اجازت نہیں، وہ شادی شدہ زندگی گزار رہی ہے۔ والدین کا اعتماد دیکھیں اور بچوں کا بھی۔ چند سال پہلے کی بات ہے کہ اپنی فیملی کے ساتھ شمالی علاقہ جات میں تھا۔ صبح کے وقت جب تیار ہو کر سامان گاڑ ی میں رکھنے کے لیےہوٹل کے کمرے سے نکلا تو سامنے والے کمرے سے میرے دو اسٹوڈنٹس (لڑکی لڑکا) نکل رہے تھے۔ انھیں اس جگہ اس حالت میں دیکھ کر میں بھی حیران رہ گیا اور وہ بھی ششدر رہ گئے۔ ندامت اور شرمندگی سے دونوں کی آنکھیں جھک گئیں اور سلام تک کرنا بھول گئے۔ ایسے موقع پر کچھ بھی کہنا فضول ہوتا ہے اس لیے میں وہاں سے ہٹ گیا اور وہ وہاں سے چلے گئے۔ کچھ دن کے بعد ٹور سے واپس آکر دفتر گیا تو وہ دونوں خود ہی میرے پاس آگئے اور خاموش بیٹھے رہے۔ کچھ دیر کے بعد میں نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا، آپ دونوں ماشاءاللہ اچھے گھرانوں سے ہیں، لائق ہیں سمجھدار ہیں، ایسے گھومنے پھرنے کی بجائے نکاح کیوں نہیں کر لیتے؟ کہنے لگے سر اسی لیے آپ کے پاس حاضر ہوئے ہیں کہ اصل صورت حال آپ کو بتا سکیں شاید آپ کچھ مدد کر دیں۔ کہنے لگے ہم دونوں نے اپنے اپنے گھر بات کی ہے مگر نکاح اور شادی کے لیے گھر والے ہماری بات سننے کو ہی تیار نہیں ہیں۔ آپ بات کریں شاید مان جائیں۔ کچھ دن کے بعد میں نے ایک کولیگ کو ساتھ لیا اور باری باری ان دونوں کے گھر چلے گئے۔ دونوں کے والدین کی طرف سے تقریباً ایک جیسا ہی جواب ملا۔ دونوں کی والدہ کا یہی کہنا تھا کہ اتنے چھوٹے بچے/ بچی کی شادی کیسے کر دوں؟ اور دونوں کے والد صاحبان کا کہنا تھا کہ ان کی برادری اور ہے ہماری اور۔ ہم اپنی ذات سے باہر شادی نہیں کرتے۔ لڑکی والوں کا مزید اعتراض یہ تھا کہ لڑکا ابھی کماتا نہیں ہے۔ اور ساتھ یہ بھی کہ ابھی اس سے بڑی دو بہنیں بیٹھی ہیں پہلے ان کی شادی ہو گی پھر اس کا سوچیں گے۔ لڑکے کے والدین کا کہنا تھا کہ اس سے بڑی بہن ہے جو ابھی کنواری ہے۔ اس سے پہلے اسکی کیسے کر دیں۔ اور مزید یہ کہ ابھی تو اپنی تعلیم کے لیے بھی ہم سے خرچہ لیتا ہے تو شادی کے بعد کیا کرے گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان سب باتوں پر جو کچھ میں نے ان کے والدین سے عرض کیا وہ یہ تھا 1) سب سے پہلی بات تو یہ کہ ذات برادری صرف پہچان کے لیے ہے ورنہ مسلمانوں میں کسی سے بھی شادی ہو سکتی ہے اور یہ ذات برادریاں کوئی معنی نہیں رکھتی ہیں۔ سب مسلمان برابر ہیں۔ 2)بلوغت کے بعد لڑکی لڑکا چھوٹے نہیں رہتے بلکہ جنسی خواہش پورا کرنا انکی بنیادی ضروریات میں سے ایک چیز ہے بلکہ نوجوانی میں یہ خواہش شدید تر ہوتی ہے۔ 3) ضروری نہیں ہوتا کہ ترتیب سے ہی بچوں کے رشتے کیے جائیں بلکہ اگر کسی کا رشتہ پہلے آگیا ہے تو اسکی شادی پہلے کر دینی چاہیے چاہے وہ لڑکی ہو یا لڑکا۔ 4) آپ لوگ اچھے کھاتے پیتے گھرانوں سے ہیں اور دولت کی ریل پیل ہے۔ جہاں ابھی ایک کے اخراجات برداشت کر رہے ہیں وہاں دو کے کرنا بھی کوئی مشکل نہیں ہے آپ کے لیے ۔ یہ مشکل ہو تو پھر جیسے ابھی اپنے بیٹے یا بیٹی کے اخراجات برداشت کر رہے ویسے اپنے اپنے بیٹے یا بیٹی کے اخراجات برداشت کرتے رہیں جب تک کہ وہ کمانے والے نہ ہو جائیں۔ 5) اگر یہ مشکل ہو تو جو اخراجات آپ نے انکی شادی پر کرنے کا سوچا ہے وہ الگ کر کے کسی اکاؤنٹ میں رکھ دیں اور اسی میں سے انکو ماہانہ خرچہ دیتے رہیں اور انکی شادی بالکل سادگی سے کر دیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ پیسہ ختم ہونے سے بہت پہلے یہ دونوں کمانے والے ہو جائیں گے۔ 6) اگر یہ سب ناممکن ہے تو کم سے کم ان کا نکاح کر دیں تاکہ یہ گناہ سے بچے رہیں۔ جب جاب شروع کریں تورخصتی کر دیجیے گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت بار دونوں طرف سے ملاقاتیں ہوئیں۔دونوں خاندانوں کی آپس میں بھی بات چیت اور ملاقاتیں کروائیں مگر سوئی دونوں طرف سے وہیں اٹکی رہی۔ اتنا عرصہ گزر گیا مگر دونوں طرف سے والدین نہیں مانے۔ ۔۔۔۔۔۔ پچھلے دنوں سریناہوٹل فیصل آباد میں ایک غیر ملکی دوست سے ملنے گیا جو وہاں ٹھہرا ہوا تھا۔ جب اس کے کمرے سے نکلا تو ساتھ والے کمرے سے وہی دونوں سٹوڈنٹس ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے نکل رہے تھے۔ اب کی بار ان کے چہرے پر نہ کوئی ندامت تھی نہ شرمندگی۔ سکون سے سلام کیا مجھے، حال احوال پوچھا، اور پھر چلے گئے۔ میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ ان کو اس حال میں ان کے والدین نے ہی پہنچایا ہے کہ گناہ پر ندامت بھی ختم ہو گئی ہے۔ بلکہ یہ ان کو گناہ ہی نہیں لگتا۔ پتہ نہیں آخرت میں ایسے والدین کیا جواب دیں گے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹرعدنان نیازی #نیازیات
0 Comments